(خفیہ نیکی). khufia Neki
ہاشمی صاحب دواؤں کی ایک کمپنی کے مالک تھے ۔انھوں نے
کمپنی کی کینٹین کو ٹھیکے پر دینے کے لیے اخباری اشتہار کے ذریعے ٹھیکے داروں کو طلب کررکھا تھا اور اب ان کا انٹر ویو لے رہے تھے ۔یکا یک وہ چونکے اور سامنے بیٹھے آدمی سے بولے:”آپ نے اپنا کیا نام بتایا ہے؟“
ادھیڑ عمر آدمی نے آہستگی سے کہا:”افلاح صدیقی!“
ہاشمی صاحب نے میز پر پڑا سیاہ چشمہ اُٹھا کر پہنا اور سوچتی نظروں سے افلاح صدیقی کو دیکھنے لگے۔
پھر انھوں نے پوچھا:”صدیقی صاحب! کینٹین چلانے کا آپ کا تجربہ صرف پانچ سال کا ہے ۔اس سے پہلے آپ کی کیا مصروفیت رہی؟“
”جناب! میں ایک استاد تھا۔ساری زندگی بچوں کو بڑھایا ہے اور اب میرا بڑا بیٹا اور میں مل کر کینٹین چلاتے ہیں ۔
”جناب! میں ایک استاد تھا۔ساری زندگی بچوں کو بڑھایا ہے اور اب میرا بڑا بیٹا اور میں مل کر کینٹین چلاتے ہیں ۔
دراصل سارا کا م میرا بیٹا کرتا ہے ،میں صرف انتظامی اور مالی امور دیکھتا ہوں ۔
ہاشمی صاحب چند لمحے سوچتے رہے ،پھر بولے :”آپ نے تمام شرائط اچھی طرح پڑھ لی ہیں ،آپ کو کسی معاملے پر اعتراض تو نہیں ؟“
”نہیں جناب! تمام شرائط معقول اور قابلِ منظور ہیں ۔
”نہیں جناب! تمام شرائط معقول اور قابلِ منظور ہیں ۔
ہاشمی صاحب نے پُر خیال انداز میں سر ہلایا اور بولے :”میں ایک شرط تبدیل کر رہاہوں ۔کینٹین میں معاونت کے لیے جو دو ور کر آپ رکھیں گے ،ان کی تنخواہ کمپنی دے گی ،مگر آپ معیار کا خاص خیال رکھیں گے ۔
یہ ٹھیکہ آپ کا ہوا اور ہاں ،آپ جو رقم ایڈوانس جمع کرائیں گے،آپ کی سہولت کے لیے میں اس کی اقساط کررہا ہوں ،تاکہ آپ کو یکمشت بڑی رقم نہ دینا پڑے ۔“
افلاح صدیقی نے کچھ کہنا چاہا ،مگر الفاظ گلے میں گھٹ کررہ گئے ۔
وہ شکر گزاری کے احساس تلے دبے تھے اور جلد گھر پہنچ کر گھروالوں کو یہ خوشخبری سنانا چاہتے تھے۔
دوسری طرف ہاشمی صاحب کے پاس بھی اپنے اکلوتے ہو نہار بیٹے علی کے لیے ایک بڑی خوشخبری تھی ۔
شام کی چائے پر باپ بیٹے دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔
علی مسکراکر بولا:”پاپا! میں کیسے بھول سکتا ہوں وہ دن ! جب میرے دوست اور اساتذہ فارم ہاؤس میں اسکول کی طرف سے پکنک منارہے تھے ۔
ہاشمی صاحب مسکرا کر بولے :”مگر بیٹا! تم اپنے استاد کی کوئی خدمت نہ کر سکے۔حال آنکہ تمھیں ان کے لیے بہت کچھ کرنا چاہیے تھے ۔“
”ہاں پاپا! علی افسردہ ہو کر بولا:”پہلے تو مجھے احساس ہی نہیں ہوا تھا کہ یہ کتنی بڑی بات ہے ۔
”اب ایک خوش خبری سنو۔“ہاشمی صاحب مسکراکر بولے :”وہ ہماری کمپنی میں آئے تھے اور میں ان کے لیے جو کچھ کر سکتا تھا،وہ میں نے کردیا ،مگر ان کو اس کی وجہ نہیں بتائی،تاکہ ان کی عزتِ نفس اور خودداری کو ٹھیس نہ پہنچے۔
پھر ہاشمی صاحب نے ساری تفصیل علی کو سنائی تو فرط جذبات سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس نے اپنے پاپا کے ہاتھ چوم لیے۔
دوسری طرف افلاح صدیقی کے گھر پر جشن کا سماں تھا۔
دونوں اطراف خوشیاں تھیں ،ایک گمنام نیکی نے سب کے چہروں پر خوشیاں اور مستقبل کے امکانات پیدا کردیے تھے۔

Post A Comment:
0 comments so far,add yours